30 ستمبر 2026 - 16:16
آئرلینڈ میں صیہونی شخصیت کی متنازع پوسٹ؛ ’اب وقت آ گیا ہے کہ آئرلینڈ میں بھی پیجرز دھماکے کیئے جائیں‘

صیہونی میڈیا سے وابستہ شخصیت یوگنی زاروبنسکی کی آئرلینڈ میں پیجر نصب کرنے سے متعلق متنازع پوسٹ پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ لبنان میں ستمبر 2024 میں ہزاروں پیجرز اور مواصلاتی آلات کے دھماکوں کے پس منظر میں اس بیان نے آئرلینڈ میں صیہونیوں کے خلاف غم و غصے کو مزید بڑھا دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی میڈیا سے وابستہ شخصیت ’’یوگنی زاروبنسکی‘‘ کی جانب سے آئرلینڈ میں پیجر نصب کرنے سے متعلق ایک متنازع پوسٹ شائع کیے جانے کے بعد صارفین کی جانب سے شدید ردعمل اور مذمت سامنے آئی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب غزہ میں صیہونی حکومت کے اقدامات کے خلاف آئرلینڈ میں احتجاج میں اضافہ ہو رہا ہے۔

زاروبنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’اچھا، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نے آئرلینڈ میں جو پیجر تقسیم کیے ہیں، انہیں فعال کریں۔‘‘

ستمبر 2024 میں لبنان میں ہزاروں پیجرز اور مواصلاتی آلات کے دھماکوں کے تناظر میں اس بیان نے آئرلینڈ میں صیہونیوں کے خلاف غم و غصے کو مزید بڑھا دیا۔

متعدد صارفین نے اس پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اسے آئرلینڈ میں تخریبی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے صیہونی حکومت سے وابستہ نیٹ ورکس کی موجودگی کی طرف اشارہ قرار دیا۔

صارفین کے ردعمل کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ اس طرح کے بیان کو آئرلینڈ کی سرزمین پر اسی نوعیت کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا اعتراف سمجھا جا سکتا ہے۔ صارفین نے صیہونی حکومت کی انٹیلی جنس سروسز کی سرگرمیوں اور لبنان میں پیجرز کے دہشت گردانہ دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’اسرائیل سے سرگرم سروسز، جنہوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے، آئرلینڈ میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر چکی ہیں۔‘‘

کچھ صارفین نے ان کارروائیوں کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا: ’’وہ صرف معصوم بچوں پر گولیاں چلا سکتے ہیں‘‘ اور ان تمام کارروائیوں کے ذمہ داروں کو عمر قید کی سزا دی جانی چاہیے۔ بعض صارفین نے یہ بھی زور دیا کہ ’’دنیا اب جانتی ہے کہ اصل دہشت گرد کون ہیں۔‘‘

یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب یورپی لیگ آف نیشنز میں آئرلینڈ اور صیہونی حکومت کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان ہونے والا میچ بھی آئرش کھلاڑیوں کی جانب سے احتجاج کے اظہار کا منظر بن گیا۔

27 ستمبر کو ہنگری کے شہر دبرسن میں ہونے والے میچ کے دوران آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور صیہونی حکومت کا ترانہ بجائے جانے کے وقت اپنے سر جھکا لیے۔ دونوں ٹیموں نے میچ شروع ہونے سے قبل ایک دوسرے سے ہاتھ بھی نہیں ملایا اور ٹیموں کے پرچموں کا بھی تبادلہ نہیں کیا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب آئرلینڈ کے اندر میچ کے بائیکاٹ اور صیہونی حکومت کی ٹیم کے ساتھ مقابلہ نہ کرنے کے لیے خاصا دباؤ موجود تھا۔ یہاں تک کہ آئرلینڈ کے گول کیپر ’’گیون بازونو‘‘ نے بھی ان دونوں میچوں میں شرکت سے انکار کر دیا اور اپنے فیصلے کی وجہ شہریوں کے قتل کی مخالفت کو قرار دیا۔

آئرلینڈ نے اسی میچ میں صیہونی حکومت کے خلاف 3-0 سے کامیابی حاصل کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha